پیر 2 نومبر 2026 - 02:00
نہج البلاغہ محض ایک علمی و ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستورِ حیات ہے، مقررین

حوزہ / جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان کے دو روزہ سالانہ جلسے کے موقع پر مرکز افکارِ اسلامی پاکستان کے تعاون سے منعقدہ کانفرنس میں علمائے کرام اور دانشورانِ ملت نے شرکت کی اور نہج البلاغہ کے علمی، فکری اور تربیتی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان کے دو روزہ سالانہ جلسے کے موقع پر مرکز افکارِ اسلامی پاکستان کے تعاون سے عظیم الشان نہج البلاغہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ممتاز علمائے کرام، دانشورانِ ملت اور مومنین و مومنات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس علمی و فکری کانفرنس سے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اخلاق حسین شیرازی، پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین خان اور حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مقبول حسین علوی نے خطاب کیا۔

مقررین نے اپنے خطابات میں نہج البلاغہ کی علمی و فکری عظمت، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت و تعلیمات اور موجودہ دور میں اس عظیم کتاب کی رہنمائی اور افادیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

نہج البلاغہ محض ایک علمی و ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستورِ حیات ہے، مقررین

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اخلاق حسین شیرازی نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کے معارف و تعلیمات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سیرتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے ایک کامل نمونہ قرار دیا۔

انہوں نے نہج البلاغہ کے مطالعہ اور اس کے پیغام کو عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین خان نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کے علمی، فکری اور ادبی مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے انسانی شعور کی بیداری، فکری بالیدگی اور اخلاقی تربیت کا اہم سرچشمہ قرار دیا۔

نہج البلاغہ محض ایک علمی و ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستورِ حیات ہے، مقررین

انہوں نے عصرِ حاضر کے فکری و تہذیبی چیلنجز کے تناظر میں تعلیماتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی معنویت اور ان سے استفادے کی ضرورت کو واضح کیا۔

سرپرست مرکز افکار اسلامی حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مقبول حسین علوی نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کی دینی و تربیتی اہمیت بیان کرتے ہوئے اس کے پیغام کو معاشرے میں عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے تعلیماتِ علوی سے آگاہی، سیرتِ حضرت علی علیہ السلام کی پیروی اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں عدل، تقویٰ، اخلاص، حکمت اور خدمتِ خلق جیسی اقدار کو فروغ دینے کی اہمیت اجاگر کی۔

نہج البلاغہ محض ایک علمی و ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستورِ حیات ہے، مقررین

مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نہج البلاغہ محض ایک علمی و ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستورِ حیات ہے۔ جس میں عقائد، اخلاق، سیاست، معاشرت، عدل و انصاف اور انسانی حقوق سمیت زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو اس عظیم علمی ورثے سے روشناس کرایا جائے اور اس کے معارف کو عام فہم انداز میں معاشرے تک پہنچایا جائے۔

کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے نہج البلاغہ کے فروغ اور تعلیماتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے اس نوعیت کی علمی و فکری نشستوں کو اہم قرار دیا۔

واضح رہے کہ یہ کانفرنس جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان کے دو روزہ سالانہ جلسے کے موقع پر مرکز افکارِ اسلامی پاکستان کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس میں مومنین و مومنات نے بھرپور شرکت کر کے نہج البلاغہ سے اپنی عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔

نہج البلاغہ محض ایک علمی و ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستورِ حیات ہے، مقررین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha